پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کے روز میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی بیان بے بنیاد، گمراہ کن اور غیر ضروری ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی اور خطے میں اس کے منفی کردار کے پیش نظر یہ بیان بھارتی منافقت اور دوہرے معیار کا عکاس ہے۔
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ یہ بیان اس ملک کی طرف سے آیا ہے جس کی قیادت انتخابی مفادات کے لیے اسلامو فوبیا کو ہوا دینے اور اپنی مسلم آبادی کے خلاف مظالم ڈھانے میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہفتے قبل ہی بھارتی قیادت نے فلسطین میں معصوم شہریوں کے قتل عام میں ملوث قابض قوت کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جو ملک بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کو نقصان پہنچاتا رہا ہے، اس کا ان اصولوں پر بات کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی سے توجہ نہیں ہٹا سکتے۔
ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کو افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور سرپرستی سے باز رہنا چاہیے، جن میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کامیاب کوششوں پر بے جا تنقید بند کر دینی چاہیے۔
