کراچی کے علاقے گل پلازہ میں اتوار کے روز لگنے والی آگ کے بعد پولیس نے تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ فائر بریگیڈ کی نصف درجن سے زائد گاڑیوں نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔ یہ عمارت رواں برس جنوری میں لگنے والی اس خوفناک آگ کا شکار ہوئی تھی جس میں ستر سے زائد افراد جاں بحق اور سینکڑوں دکانیں خاکستر ہوگئی تھیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحق حسیب خان کے مطابق انہیں شام پانچ بجے بیسمنٹ میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ چھ فائر ٹینڈرز نے شدید کوششوں کے بعد ستر فیصد آگ بجھائی، تاہم عمارت سے اب بھی شدید دھواں اور تپش خارج ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سانحے کے بعد تشکیل دی گئی اسپیشل رسپانس ٹیم جدید آلات کے ساتھ موقع پر موجود تھی۔
حسان الحق نے مزید کہا کہ بیسمنٹ میں وینٹیلیشن کا نظام نہ ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کو آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیسمنٹ میں جھاڑیاں نہیں بلکہ پرانی دکانوں کا ملبہ موجود تھا جس نے آگ کو بھڑکایا، جسے بجھانے کے لیے بھاری مشینری طلب کی گئی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کے مطابق پولیس کو آگ لگنے کی اطلاع چار بج کر ترپن منٹ پر ملی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تین منشیات کے عادی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن پر آگ لگانے کا شبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقام پر منشیات کے عادی افراد کا بسیرا رہتا ہے، تاہم انہوں نے دھاتوں کی چوری کے الزامات کو مسترد کر دیا۔
ڈی آئی جی نے غفلت برتنے پر گل پلازہ پر تعینات آٹھ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے باعث عمارت کے متاثرہ حصے کا کور اکھڑ گیا تھا جس سے عمارت تک رسائی آسان ہو گئی۔ پولیس حکام نے ضلعی انتظامیہ کو مراسلے کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ عمارت کی غیر محفوظ صورتحال اور منشیات کے عادی افراد کا داخلہ سیکیورٹی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمارت کو جلد از جلد دوبارہ سیل اور محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
