-Advertisement-

آسٹریلیا اور یورپی یونین کا تجارتی معاہدہ، چین پر انحصار کم کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین

نئی دھمکیوں کے بعد خاموشی اختیار نہیں کر سکتے، کینیڈین سکھ رہنما کا بیان

جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں سکھ فیڈریشن آف کینیڈا کے چیئرمین مونیندر سنگھ نے عالمی برادری سے...
-Advertisement-

آسٹریلیا اور یورپی یونین نے آٹھ برس کی طویل بات چیت کے بعد ایک اہم تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت یورپی اشیاء اور آسٹریلیا سے برآمد ہونے والے تقریباً تمام اہم معدنیات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی جائے گی۔ اس اقدام سے یورپی کمپنیوں کو سالانہ ایک ارب یورو (تقریباً ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر) کی بچت ہوگی اور توقع ہے کہ اگلے ایک دہائی کے دوران آسٹریلیا کو یورپی برآمدات میں 33 فیصد تک اضافہ ہوگا۔

معاہدے کے تحت آسٹریلیا کی یورپی یونین کو برآمدات میں تقریباً تمام اہم معدنیات پر محصولات کا خاتمہ عالمی سپلائی چین کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس معاہدے سے آسٹریلوی معیشت کو سالانہ تقریباً 10 ارب آسٹریلوی ڈالر (7 ارب امریکی ڈالر) کا فائدہ ہوگا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ جغرافیائی دوری کے باوجود یورپ اور آسٹریلیا عالمی امور پر ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین پر انحصار کم کرنے اور اہم معدنیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے یہ شراکت داری انتہائی ضروری ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں فریقین نے سکیورٹی اور دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔

معاہدے کے تحت یورپی شراب، چاکلیٹ، پھل اور سبزیوں پر آسٹریلوی محصولات فوری طور پر ختم کر دیے گئے ہیں جبکہ پنیر پر ڈیوٹی تین سال کے مرحلہ وار عمل کے ذریعے ختم ہوگی۔ دوسری جانب یورپی یونین نے آسٹریلوی زرعی مصنوعات کے لیے بھی دروازے کھول دیے ہیں، تاہم بیف اور بھیڑ کے گوشت پر کوٹہ لاگو رہے گا۔

آسٹریلیا کی نیشنل فارمرز فیڈریشن کے صدر ہیمش میکانٹائر نے اس معاہدے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی کسانوں کو زرعی مارکیٹ تک توقع کے مطابق رسائی نہیں ملی۔ اس معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجارتی مذاکرات کسانوں کے مفادات کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔

اس معاہدے کا ایک اہم پہلو یورپی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس میں نرمی ہے۔ آسٹریلیا نے یورپی ای وی گاڑیوں کے لیے لگژری کار ٹیکس کی حد ایک لاکھ بیس ہزار آسٹریلوی ڈالر تک بڑھا دی ہے، جس سے یورپی برقی گاڑیوں کا 75 فیصد حصہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہو جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ انڈو پیسیفک خطے میں یورپ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل یورپی یونین انڈونیشیا اور بھارت کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے کر چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین 2024 میں آسٹریلیا کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار اور سرمایہ کاری کا دوسرا بڑا ذریعہ رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -