امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے پچیس روز بعد زمینی حقائق بدل چکے ہیں۔ پینتالیس برس سے اقتدار میں موجود ایرانی حکومت کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے کے بعد، صدر ٹرمپ نے تیس ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے مظاہرین کی مدد کا عزم ظاہر کیا تھا۔ تاہم اب صورتحال میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔
برطانیہ میں مقیم ایرانی نژاد شہری رضا، جن کا نام سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تبدیل کیا گیا ہے، کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام کو اب یہ تلخ حقیقت سمجھ آ رہی ہے کہ بغیر کسی مربوط اور طویل مدتی منصوبے کے کی گئی یکطرفہ کارروائیاں بے سود ہیں۔ رضا کے مطابق ایران صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کے فقدان کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں اپنی پوزیشن مستحکم کر کے دنیا کو مشکلات میں مبتلا کر رہا ہے۔
ایران کے اندر موجود ایک اور شہری عامر، جن کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا ہے، کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو پہلے جنگ کو آزادی کا ذریعہ سمجھ رہے تھے، اب کسی بھی قیمت پر فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔ عامر نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے ہفتے انتہائی ہولناک ہو سکتے ہیں کیونکہ دونوں جانب سے انتہائی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
عامر کے مطابق ایران میں موجود اپوزیشن گروپس اتنے کمزور ہیں کہ وہ کوئی بھی فعال اتحاد بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جس سے وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے حکومت گرانے کی اپیلیں بے اثر دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
