-Advertisement-

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کا ایران کے اسکول پر حملے کی تحقیقات مکمل کرنے کا مطالبہ

تازہ ترین

بیرون ٹرمپ کی اطلاع پر لندن میں خاتون پر حملہ کرنے والا روسی شہری چار سال قید

لندن کی ایک عدالت نے روسی شہری مٹوئی رومیانتسیف کو ایک خاتون پر تشدد کرنے کے جرم میں چار...
-Advertisement-

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ٹرک نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے مہلک حملے کی تحقیقات کو جلد از جلد مکمل کر کے نتائج کا اعلان کرے۔ جنیوا میں ہونے والے اس اجلاس میں متعدد ممالک نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

ایران کی جانب سے بلائے گئے اس ہنگامی اجلاس کا مقصد شجرہ طیبہ اسکول پر ہونے والے حملے پر تبادلہ خیال کرنا تھا، جس کے بارے میں تہران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی علاقائی جنگ کے پہلے روز اس واقعے میں 175 سے زائد بچے اور اساتذہ جاں بحق ہوئے تھے۔

رائٹرز کی جانب سے 5 مارچ کو رپورٹ کیا گیا تھا کہ امریکی فوجی تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ اس حملے کے ذمہ دار ممکنہ طور پر امریکی فورسز ہیں، تاہم حتمی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہو سکی ہیں۔ پینٹاگون نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

وولکر ٹرک نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک نقصان کے انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے رواں ہفتے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا۔

ادھر جنیوا میں اسرائیل کے سفارتی مشن نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ملک کا اس طرح کے مباحثے بلانا اقوام متحدہ کی کونسل کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ امریکی مشن نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے سوالات محکمہ خارجہ کو بھجوا دیے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بربریت کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے خاموشی سے نظر انداز کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے سفیر بلال احمد نے اسکول کے بچوں کی ہلاکت کو ناقابل برداشت قرار دیا جبکہ چین کے سفیر جیا گائیڈ نے کہا کہ یہ واقعہ انسانی اخلاقیات کی حدود کی پامالی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

برطانیہ سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی واقعے پر صدمے کا اظہار کیا، تاہم ساتھ ہی ایران میں جنوری کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ برازیل کے سفیر ٹوار ڈا سلوا نونس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ علاقائی جنگ کے دوران ہونے والی خلاف ورزیوں پر کوئی جامع بحث نہیں ہو رہی۔

اجلاس کے دوران متاثرہ بچوں کی ایک والدہ محدثہ فلاحات نے بھی شرکت کی اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ بچوں کی زندگیاں بے وقعت نہیں ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -