لندن کی ایک عدالت نے روسی شہری مٹوئی رومیانتسیف کو ایک خاتون پر تشدد کرنے کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس واقعے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حملے کے دوران خاتون کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صاحبزادے بیرن ٹرمپ سے ویڈیو کال جاری تھی جس کے دوران انہوں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
سنیرز بروک کراؤن کورٹ کے جسٹس جوئیل بیناتھن نے مجرم کو سزا سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزم کا رویہ غیر پشیمان اور انتہائی حسد پر مبنی تھا۔ جج نے کہا کہ ٹرائل کے دوران ملزم میں ہمدردی کا فقدان واضح تھا اور وہ مسلسل اپنے کیے کا الزام متاثرہ خاتون پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہا۔
تیئس سالہ مٹوئی رومیانتسیف کو 28 جنوری کو جیوری نے جسمانی نقصان پہنچانے کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا تھا، تاہم اسے زیادتی اور گلا گھونٹنے کے الزامات سے بری کر دیا گیا۔ ملزم کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی مجرم پایا گیا کیونکہ اس نے جیل سے خاتون کو خط لکھ کر اپنے الزامات واپس لینے کا دباؤ ڈالا تھا۔
واقعہ گزشتہ سال 18 جنوری کو پیش آیا جب نشے میں دھت ملزم نے خاتون پر تشدد کیا کیونکہ وہ بیرن ٹرمپ کے ساتھ خاتون کی دوستی سے خائف تھا۔ ملزم نے تشدد کے دوران خاتون کا فون اٹھا کر ویڈیو کال پر بیرن ٹرمپ کو دکھایا کہ وہ زمین پر رو رہی ہے۔
امریکی صدر کے صاحبزادے نے فوری طور پر برطانوی پولیس کو فون کر کے خاتون کی زندگی بچانے کی اپیل کی۔ برطانوی پراسیکیوشن سروس کے مطابق بیرن ٹرمپ نے ہنگامی سروس کو بتایا کہ ایک لڑکی پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ جب آپریٹر نے تفصیلات مانگیں تو بیرن ٹرمپ نے اصرار کیا کہ تفصیلات غیر اہم ہیں اور فوری مدد کی ضرورت ہے۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر لندن میں مقیم ریسیپشنسٹ رومیانتسیف کو گرفتار کر لیا۔ عدالت میں دفاعی وکیل ساشا واس نے موقف اختیار کیا کہ بیرن ٹرمپ کو علم نہیں تھا کہ خاتون کا بوائے فرینڈ موجود ہے اور انہوں نے چند سیکنڈ کی ویڈیو میں سب کچھ دیکھ لینے کے دعوے پر سوال اٹھائے۔
عدالت میں پیش کردہ تحریری بیان میں 19 سالہ بیرن ٹرمپ نے بتایا کہ متاثرہ خاتون ان کی قریبی دوست ہیں اور انہوں نے پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ ملزم انہیں کافی عرصے سے تنگ کر رہا ہے۔ جج نے جیوری کو ہدایت کی تھی کہ بیرن ٹرمپ کے بیانات کا جائزہ لیتے وقت احتیاط برتی جائے کیونکہ ان پر جرح نہیں ہو سکی تھی۔
