نیپال کے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کو کٹھمنڈو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ان کی گرفتاری گزشتہ سال ستمبر میں بدعنوانی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں غفلت برتنے کے الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہے۔
پولیس نے سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ریپر سے سیاستدان بننے والے بالیندر شاہ کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کے ایک روز بعد اور ایک تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے کی گئی ہیں۔
گزشتہ ہفتے قائم کردہ نیپالی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ سابقہ حکومتی عہدیداران کے خلاف غفلت برتنے پر مقدمہ چلایا جائے۔ ان مظاہروں کے دوران دو روز میں مجموعی طور پر 76 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن کے بعد اولی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
پولیس ترجمان اوم ادھیکاری کے مطابق دونوں ملزمان کو کٹھمنڈو پولیس آفس میں رکھا گیا ہے اور انہیں اتوار کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ طبی وجوہات کی بنا پر 74 سالہ کے پی شرما اولی کو پولیس آفس سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، کیونکہ وہ ماضی میں دو بار گردے کی پیوند کاری کروا چکے ہیں۔
سابق وزیراعظم کے وکیل ٹکارام بھٹارائے نے گرفتاری کو غیر قانونی اور غیر مناسب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کے فرار ہونے یا تحقیقات سے بچنے کا کوئی خدشہ نہیں تھا، اس لیے یہ کارروائی بلا جواز ہے۔
تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کے پی شرما اولی کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے کہ مظاہروں کے پہلے روز فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا اور انہوں نے اسے روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔ ان ہلاکتوں کے بعد عوامی غم و غصے نے بالیندر شاہ کی راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو حالیہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
