اسلام آباد میں خطے کی کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترکی کے ہاکان فیدان اور مصر کے ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اسلام آباد پہنچیں گے۔ دورے کے دوران مہمان وزرائے خارجہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ پاکستان ان برادر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ دورہ کثیر الجہتی شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
اس اہم پیش رفت سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان کے مطابق وانگ ژی نے ایران کی صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ بیجنگ خطے میں ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی کے فروغ، امن مذاکرات کی بحالی اور غیر فوجی اہداف و تجارتی راستوں کے تحفظ پر اتفاق کیا۔
پاکستان خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے لیے مقام کے طور پر پیش کیا تھا، جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا۔
اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان، ترکی اور مصر کی معاونت سے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں نائب وزیراعظم برطانیہ، چین اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی مشاورت کر چکے ہیں۔
