-Advertisement-

امریکی صدر کے خلاف ‘نو کنگز’ تحریک: ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی توقع

تازہ ترین

نیپال: ستمبر 2025 کے پرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں پر سابق وزیراعظم گرفتار

نیپال کی پولیس نے ہفتے کے روز علی الصبح سابق وزیر اعظم کھڑگا پرساد اولی کو گرفتار کر لیا...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور مبینہ آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف آج ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج متوقع ہے۔ نوب کنگز نامی تحریک کے زیر اہتمام ہونے والے یہ مظاہرے رواں سال کے دوران تیسری بار منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں لاکھوں امریکی شہری سڑکوں پر نکل کر صدر ٹرمپ کے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کریں گے۔

مظاہرین میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ اور اس کے غیر واضح اہداف پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس تحریک کا آغاز رواں سال جون میں صدر ٹرمپ کی 79 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا تھا جبکہ اکتوبر میں ہونے والے دوسرے مرحلے میں منتظمین کے مطابق تقریباً ستر لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔

موجودہ سیاسی صورتحال میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف چالیس فیصد تک گر چکا ہے جس کے بعد نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں نشستیں گنوانے کا خدشہ لاحق ہے۔ ناقدین صدر ٹرمپ پر ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے حکمرانی، محکمہ انصاف کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے انکار اور نسلی و صنفی تنوع کے پروگراموں کی مخالفت کرنے جیسے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

کامن ڈیفنس نامی ویٹرنز ایسوسی ایشن کے نوید شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ انتظامیہ نے ملک کو جنگ کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک شخص بادشاہ کی طرح حکومت کرنے کی کوشش میں خاندانوں کو بکھیر رہا ہے اور امیگریشن کے نام پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

ملک بھر میں تین ہزار سے زائد ریلیاں نکالی جائیں گی جن کا دائرہ کار بڑے شہروں سے نکل کر دیہی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ ریاست مینیسوٹا کے دارالحکومت سینٹ پال میں معروف گلوکار بروس اسپرنگسٹین اپنے مشہور گیت اسٹریٹس آف منیاپولس کے ذریعے احتجاجی مظاہرین سے اظہار یکجہتی کریں گے۔

نوب کنگز تحریک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نقاب پوش خفیہ پولیس کا خوف، غیر قانونی جنگ، آزادی اظہار پر قدغن اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ امریکن فیڈریشن آف ٹیچرز کی صدر رینڈی وینگٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں عوام خوفزدہ ہیں اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہو چکے ہیں، لہذا انتظامیہ کو نفرت اور خوف پھیلانے کے بجائے عوام کی مدد کرنی چاہیے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -