-Advertisement-

بسنت کا تہوار ایک بار پھر خونی کھیل میں تبدیل، انسانی جانوں کا ضیاع

تازہ ترین

روس ایران کی توقع سے زیادہ عسکری مدد کر رہا ہے، یورپی اتحادیوں کا انکشاف

یورپی اتحادی ممالک نے امریکی سفارت کاروں پر واضح کیا ہے کہ روس، ایران کی جنگی کوششوں میں عملی...
-Advertisement-

لاہور میں فروری 2026 کے پہلے ہفتے میں تین روزہ بسنت میلے کے انعقاد نے جہاں ایک طرف تہذیبی روایت کی بحالی کے دعووں کو جنم دیا، وہیں دوسری جانب انسانی جانوں کے ضیاع نے اس میلے کو ایک المناک سانحے میں بدل کر رکھ دیا۔ حکومت کی جانب سے 21 سالہ پابندی کو آرڈیننس کے ذریعے عارضی طور پر ختم کرنے کے بعد ہونے والے اس میلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 17 افراد ہلاک اور 160 زخمی ہوئے، تاہم نجی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد 21 تک پہنچ چکی ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں چھتوں سے گرنے کے باعث ہوئیں جن میں 15 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 12 افراد بلندی سے گر کر جبکہ 3 افراد کرنٹ لگنے کے باعث لقمہ اجل بنے۔ دھاتی ڈور پر پابندی اور موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز نصب کرنے کے حکومتی دعووں کے باوجود 120 سے زائد حادثات رپورٹ ہوئے۔

متاثرہ خاندانوں نے حکومتی غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ زین ملک کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کا گھر اجڑ گیا لیکن کسی سرکاری عہدیدار نے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی مالی معاونت فراہم کی گئی۔ اسی طرح احمد کے والد نے الزام عائد کیا کہ بسنت کا انعقاد صرف اشرافیہ کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا جس کی قیمت غریب خاندانوں نے اپنے بچوں کی جانوں کی صورت میں ادا کی۔

سماجی کارکن اور پبلک پالیسی ایڈوائزر سلمان عابد کے مطابق یہ میلہ صرف مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتا رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقررہ مدت گزرنے کے باوجود پتنگ بازی کا سلسلہ جاری رہا اور انتظامیہ پابندی پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی اعداد و شمار سے ہٹ کر ہلاکتوں کی تعداد 24 تک پہنچ سکتی ہے جبکہ متاثرین کو کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب اس تین روزہ میلے سے قومی خزانے کو تین سے چار ارب روپے کی آمدنی ہوئی، جس میں سے دو سے ڈھائی ارب روپے صرف پتنگوں اور ڈور کی فروخت سے حاصل ہوئے۔ حکومت نے پانچ ہزار سے زائد دکانداروں کو پتنگ فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔

پنجاب حکومت کے ترجمان کا موقف ہے کہ میلہ سخت ایس او پیز کے تحت منعقد کیا گیا تھا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے 17 افراد کے لواحقین کے لیے معاوضے کی ادائیگی پر ایک کمیٹی غور کر رہی ہے اور آئندہ برس محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق 2026 کے دوران اب تک آٹھ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور سات ہزار دو سو سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پتنگ بازی اور اس کی تیاری پر پہلی بار 2005 میں پابندی عائد کی گئی تھی، جس کے بعد سے اب تک دو ہزار بیس سے زائد افراد اس خونی کھیل کی نذر ہو چکے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -