ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی حکومت اور عسکری ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور تہران کی جانب سے جوابی کارروائیاں اس عمل کو مزید تیز کر دیں گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر کے مبینہ ریمارکس کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے طویل جنگ کے باعث مسلح افواج کے اندرونی دباؤ اور انتشار کی نشاندہی کی تھی۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق اسرائیلی میڈیا میں بھی ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ فوج کو آپریشنل دباؤ سمیت متعدد سنگین خطرات کا سامنا ہے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنے اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کے صنعتی انفراسٹرکچر پر حملوں میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ اپنی فوج کے حوصلے بحال کر سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا جواب فیصلہ کن ہوگا جس سے اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور دونوں جانب سے حملوں کے تبادلے نے وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
