تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر شہروں میں ہفتے کے روز جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے جنہیں پولیس نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے طاقت کے زور پر منتشر کر دیا۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہروں میں شرکاء کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ یہ تعداد گزشتہ برس غزہ جنگ کے خلاف نکلنے والے ہجوم سے کم ہے تاہم سابق ارکان پارلیمنٹ اور نمایاں بائیں بازو کی تنظیموں بشمول سٹینڈنگ ٹوگیدر، پیس ناؤ اور ویمن ویج پیس کی شرکت نے اسے ایک نئی جہت دی ہے۔
جنگ کی موجودہ صورتحال اور ایران و لبنان سے میزائل حملوں کے پیش نظر نافذ ہنگامی ضابطہ اخلاق کے تحت اسرائیل میں پچاس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ مظاہرے حکومتی اجازت کے بغیر منعقد کیے گئے تھے۔
تل ابیب میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس کے دوران متعدد افراد کو زمین پر گرایا گیا اور کچھ کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کے مطابق تل ابیب سے تیرہ اور حائفہ سے پانچ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، جہاں مظاہرین کی جانب سے سڑکیں بلاک کرنے کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔
سٹینڈنگ ٹوگیدر نامی تنظیم نے اپنے بیان میں حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے پولیس کا استعمال کر رہی ہے کیونکہ حکومت کو عوامی تحریک کے پھیلاؤ کا خوف ہے۔
مظاہرے میں شریک باون سالہ ٹور گائیڈ یورام نے کہا کہ جنگ کو چار ہفتے گزر چکے ہیں لیکن اس کا حتمی مقصد کسی کو معلوم نہیں ہے۔ چھہتر سالہ جوآن لیوائن نے الزام لگایا کہ یہ جنگ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ سروے کے مطابق اسرائیل میں ایران کے خلاف جنگ کی حمایت تاحال زیادہ ہے، جہاں تہتر فیصد یہودی اسرائیلی اس جنگ کے حامی ہیں۔ تاہم جنگ کے مخالفین کی شرح مارچ کے اوائل میں چار فیصد تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے گیارہ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
