-Advertisement-

امریکا: قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور نواسی کی قانونی حیثیت ختم، حراست میں لے لیا گیا

تازہ ترین

جنگ زدہ حالات میں آزاد منڈی کے اصول غیر مؤثر ہو جاتے ہیں

گزشتہ ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عمل متوقع نتائج کے ساتھ مکمل ہو گیا جس کے...
-Advertisement-

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مرحوم میجر جنرل قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور ان کی بیٹی کو امریکی حکام نے جمعہ کی شب حراست میں لے لیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں خواتین کی مستقل رہائشی حیثیت یعنی گرین کارڈ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے حمیدہ سلیمانی افشار کی جانب سے 2019 میں دائر کردہ سیاسی پناہ کی درخواست کو جعلی قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرین کارڈ حاصل کرنے کے باوجود حمیدہ سلیمانی نے کم از کم چار بار ایران کا دورہ کیا جو ان کی حیثیت کی تنسیخ کی بڑی وجہ بنا۔

امریکی حکام کا الزام ہے کہ حمیدہ سلیمانی لاس اینجلس میں پرتعیش زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ ایرانی حکومت کے پروپیگنڈے کو فروغ دیتی رہی ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر امریکی افواج کے خلاف حملوں کی حمایت اور امریکہ کو شیطانِ بزرگ قرار دینے جیسے بیانات میں ملوث رہی ہیں۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے غیر ملکی شہریوں کو ملک میں پناہ نہیں دے گی جو امریکہ مخالف دہشت گرد رجیم کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کارروائی کے تحت سابق ایرانی سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی کی بیٹی فاطمہ اردشیر لاریجانی اور ان کے شوہر سید کلانتر معتمدی کی قانونی حیثیت بھی ختم کر دی گئی ہے، تاہم وہ اس وقت امریکہ میں موجود نہیں ہیں۔

قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں عراق میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ ایران کی علاقائی فوجی حکمت عملی کے مرکزی کردار سمجھے جاتے تھے اور ان کی ہلاکت کے بعد سے ان کا خاندان مسلسل امریکی حکام کی نظروں میں رہا ہے۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ میں رہائش ایک استحقاق ہے اور اگر کسی گرین کارڈ ہولڈر کے بارے میں یہ خدشہ ہو کہ وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے تو اس کی قانونی حیثیت فوری طور پر منسوخ کر دی جائے گی۔ حکومت اب ان افراد کو ملک بدر کرنے کے لیے قانونی کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -