ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی صاحبزادی زینب سلیمانی نے امریکی محکمہ خارجہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حال ہی میں حراست میں لی گئی دو خواتین ان کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
زینب سلیمانی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ زیر حراست خواتین کا ان کے والد کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور امریکی موقف سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس حد تک گر چکا ہے کہ وہ قاسم سلیمانی اور ایرانی قوم کے خلاف عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔
یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کو قاسم سلیمانی کی رشتہ دار قرار دیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ دونوں خواتین گرین کارڈ ہولڈر تھیں اور امریکہ میں پرتعیش زندگی گزار رہی تھیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں تصدیق کی کہ مارکو روبیو نے مذکورہ خواتین کی قانونی رہائشی حیثیت منسوخ کر دی ہے اور وہ اس وقت امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی تحویل میں ہیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق ان خواتین کو جمعے کے روز لاس اینجلس سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر پرتعیش طرز زندگی گزار رہی تھیں۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق قاسم سلیمانی کی ایک اور صاحبزادی نرجس سلیمانی نے بھی ان دعووں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد کے اہل خانہ کبھی امریکہ میں مقیم نہیں رہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قاسم سلیمانی کے دو بھانجے تھے، کوئی بھانجی نہیں تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ رواں ماہ کے اوائل میں مارکو روبیو نے ایرانی سیاست دان علی لاریجانی کی صاحبزادی فاطمہ اردشیر لاریجانی اور ان کے شوہر سید کلانتر معتمدی کی قانونی حیثیت بھی ختم کر دی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جوڑا اب امریکہ میں موجود نہیں ہے اور ان کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
