واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سیٹلائٹ امیجنگ فراہم کرنے والی امریکی کمپنی پلینٹ لیبز نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی حکومت کی درخواست پر ایران اور مشرق وسطیٰ کے تنازع زدہ علاقوں کی سیٹلائٹ تصاویر کی فراہمی غیر معینہ مدت تک روک رہی ہے۔
کیلیفورنیا میں قائم کمپنی نے اپنے صارفین کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ امریکی حکومت نے تمام سیٹلائٹ امیجری فراہم کنندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تنازع کے علاقوں کی تصاویر جاری نہ کریں۔ یہ پابندی گزشتہ ماہ عائد کردہ چودہ روزہ تاخیر سے کہیں زیادہ وسیع ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر حریف قوتوں کو امریکی اور اتحادی مفادات کے خلاف ان تصاویر کے استعمال سے روکنا تھا۔
پلینٹ لیبز نے واضح کیا ہے کہ نو مارچ سے اب تک کی تمام تصاویر کو روک دیا گیا ہے اور یہ پالیسی خطے میں کشیدگی کے خاتمے تک برقرار رہے گی۔ یہ تنازع اٹھائیس فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں بشمول سعودی عرب، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا فوجی استعمال ہدف کی نشاندہی، میزائلوں کی رہنمائی اور مواصلاتی رابطوں میں کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران تجارتی سیٹلائٹ تصاویر تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جو صحافیوں اور محققین کے لیے بھی اہم ہوتی ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اب وہ تصاویر کی تقسیم کے لیے ایک نیا نظام اپنائے گی جس کے تحت صرف ان تصاویر کو جاری کیا جائے گا جو سکیورٹی خدشات کا باعث نہ بنیں۔ ہنگامی اور قومی مفاد کے کیسز میں تصاویر کا جائزہ انفرادی بنیادوں پر لیا جائے گا۔
دوسری جانب ایک اور کمرشل کمپنی وینٹر، جو پہلے میکسار ٹیکنالوجیز کے نام سے جانی جاتی تھی، نے کہا ہے کہ انہیں امریکی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی، تاہم وہ جیو پولیٹیکل تنازعات کے دوران رسائی پر پابندیاں لگانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ بلیک اسکائی ٹیکنالوجی نامی ایک اور ادارے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ پینٹاگون نے انٹیلی جنس امور پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
