-Advertisement-

بندرگاہوں پر رش ختم کرنے کے لیے 30 روزہ خصوصی مہم کا آغاز

تازہ ترین

جرمنی: ایسٹر کی تقریب کے دوران درخت گرنے سے 10 ماہ کی بچی سمیت 3 افراد ہلاک

شمالی جرمنی میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے میں دس ماہ کی...
-Advertisement-

وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے ملکی بندرگاہوں پر کنٹینرز کے رش کو کم کرنے کے لیے تیس روزہ ہنگامی پلان پر عملدرآمد کا حکم دے دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خلیجی سمندری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد پاکستان کی بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے ٹرانز شپمنٹ ٹریفک سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والی ایران میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سمندری نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے تجارتی اور توانائی کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ جہاز رانی کے راستوں کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے، جس کے نتیجے میں کراچی سمیت پاکستان کی بندرگاہوں پر سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو علاقائی بدلتی صورتحال سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک دور اندیش فریم ورک اپنانا ہوگا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ تیس دن کے اندر بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے کنٹینرز اور اضافی سامان کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ آپریشنل عمل کو ہموار بنایا جا سکے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ملکی تجارت متاثر نہ ہو۔

منصوبے کے تحت مصروف آن ڈاک علاقوں سے کنٹینرز کو تیس دن کے اندر آف ڈاک اسٹوریج میں منتقل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کارگو کا ریکارڈ اپ ڈیٹ رکھنے اور لاوارث سامان کی نیلامی کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے، جس میں کسٹمز کے حکام معاونت فراہم کریں گے۔ وزیر نے کہا کہ علاقائی تبدیلیوں کے تناظر میں بندرگاہوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، لہذا اضافی بوجھ کو کمرشل بنیادوں پر سنبھالنے کے لیے ایک شفاف میکانزم تشکیل دیا جائے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -