-Advertisement-

برمنگھم: صبا خان کی منگلا ڈیم پر مبنی نمائش کا آخری ویک اینڈ

تازہ ترین

جرمنی: ایسٹر کی تقریب کے دوران درخت گرنے سے 10 ماہ کی بچی سمیت 3 افراد ہلاک

شمالی جرمنی میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے میں دس ماہ کی...
-Advertisement-

برطانیہ کے شہر برمنگھم میں واقع مڈلینڈز آرٹس سینٹر میں پاکستانی نژاد فنکارہ صبا خان کی نمائش ریور لیس واٹر اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ نمائش 1960 کی دہائی میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں ہونے والی نقل مکانی اور جنوبی ایشیا کی آبی تاریخ کے گرد گھومتی ہے۔

اس نمائش میں بارہ پینٹنگز، آرکائیول مواد، ویڈیو انٹرویوز اور خاکے شامل ہیں جو میرپور سے برمنگھم تک ہونے والی ہجرت کی تاریخی داستان بیان کرتے ہیں۔ صبا خان نے اپنے فن پاروں کے ذریعے منگلا ڈیم کے انسانی اور ماحولیاتی اثرات کو اجاگر کیا ہے۔

آرٹس سینٹر کے مطابق منگلا ڈیم کی تعمیر کے باعث 280 سے زائد دیہات زیر آب آئے اور میرپور اور ڈڈیال کے ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے۔ نمائش میں شامل ایک پینٹنگ کارز مینوفیکچرڈ ان دی 1960 ایٹ دی لانگ برج فیکٹری میں تین کاروں کو لہروں پر تیرتے دکھایا گیا ہے جو ڈیم کے پانیوں میں ڈوبنے والے علاقوں کی عکاسی کرتی ہے۔

برمنگھم کے آرٹس سینٹر نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ میں مقیم ستر فیصد پاکستانی کمیونٹی کا تعلق اسی متاثرہ علاقے سے ہے۔ برطانوی حکومت اس منصوبے کی بین الاقوامی ضامنوں میں شامل تھی اور نقل مکانی کرنے والوں کو مقامی آبادی میں آبادکاری کے مواقع فراہم کیے گئے تھے۔

صبا خان نے اپنی تحقیق کے لیے واپڈا اور مقامی آرکائیوز سے استفادہ کیا ہے۔ ان کا کام تقسیم ہند کے بعد کے دور، برطانوی نوآبادیاتی ورثے اور انڈس واٹر ٹریٹی جیسے اہم تاریخی واقعات کی گہرائیوں کو سامنے لاتا ہے۔

فنکارہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی ہجرت کے رجحانات میں مردوں کا لانگ برج کار فیکٹری جیسے مقامات پر عارضی ملازمتیں کرنا شامل تھا۔ ان کا کام تارکین وطن کے نفسیاتی تجربات، صدمے اور نقصان کے احساس کو ایک منفرد بصری انداز میں پیش کرتا ہے۔

صبا خان کی یہ نمائش اس سال جنوری میں شروع ہوئی تھی اور اس کا آخری دن چھ اپریل مقرر کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -