وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت مسافر بسوں کے لیے ایک لاکھ روپے جبکہ منی بسوں اور ویگنوں کے لیے 40 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کر رہی ہے تاکہ کرایوں میں اضافے کو روکا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے اور اس عمل کا آغاز بدھ کے روز سے ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔
شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر حکام نے انہیں ملک بھر میں ایندھن کے ذخائر اور کھپت کے حوالے سے بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے حکومت ٹرکوں کو 70 ہزار، بڑے مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار اور ڈیلیوری وینز کو 35 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دے رہی ہے۔
انہوں نے قومی ریلیف پیکج کے لیے اپنا حصہ جمع کرانے پر حکومت بلوچستان کو سراہا اور دیگر صوبوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس مثال کی پیروی کریں۔
گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 129 ارب روپے مالیت کا عوامی ریلیف پیکج متعارف کرایا گیا ہے جس میں پیٹرول لیوی میں فی لیٹر 80 روپے کی فوری کمی بھی شامل ہے۔
شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان ریلویز کو مسافروں اور مال بردار کرایوں میں اضافے کو روکنے کے لیے 6 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ ٹول ٹیکس میں سہ ماہی 25 فیصد اضافے کو بھی واپس لے لیا گیا ہے۔
