امریکی کانگریس کی سابق رکن اور ریپبلکن پارٹی کی اہم رہنما مارجوری ٹیلر گرین نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔
گرین نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں شامل جو لوگ خود کو مسیحی کہلواتے ہیں، انہیں خدا کے حضور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافی مانگنی چاہیے۔
آبنائے ہرمز کی حالیہ بندش پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بلا اشتعال جنگ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ اسرائیل خود جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک ہے۔
مارجوری ٹیلر گرین نے سخت الفاظ میں کہا کہ اسرائیل امریکہ کی مدد کے بغیر بھی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ بے گناہ شہریوں اور بچوں کو مارنے کا ہنر خوب جانتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد مسیحی اقدار کے منافی ہے اور کوئی بھی سچا مسیحی اس کی حمایت نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس طرز عمل کو امریکہ کو عظیم بنانے کے بجائے شیطانی عمل قرار دیا۔
