-Advertisement-

حماس کے عسکری ونگ کا ہتھیاروں کی منتقلی یا تخفیف کا مطالبہ مسترد

تازہ ترین

امریکی پائلٹ کی بازیابی: صدر ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں اہم پریس کانفرنس کریں گے

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کی دوپہر ایک بجے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں...
-Advertisement-

حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل درآمد سے قبل تنظیم کے ہتھیاروں کا معاملہ اٹھانا فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کو جاری رکھنے کی ایک کوشش ہے۔

ابو عبیدہ نے خبردار کیا کہ ہتھیاروں کے موضوع کو غیر مہذب انداز میں اٹھانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے مزاحمتی تحریک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش انتہائی خطرناک ہے۔

حماس کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ دراصل نسل کشی کے تسلسل کا ایک واضح حربہ ہے جسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ثالثوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کریں، اس کے بعد ہی دوسرے مرحلے پر بات چیت ممکن ہو سکے گی۔

ابو عبیدہ نے الزام عائد کیا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا فریق اسرائیل ہے جو مسلسل شرائط کو پامال کر رہا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ بیانات امریکی حمایت یافتہ تخفیف اسلحہ کے منصوبے کو باضابطہ مسترد کرنے کے مترادف ہیں یا نہیں۔ حماس کے سیاسی حکام کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے بھی ابو عبیدہ کے بیان پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اور حماس کے ہتھیاروں کا معاملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، جس کا مقصد گزشتہ اکتوبر میں دو سالہ مکمل جنگ کے بعد قائم ہونے والی جنگ بندی کو مستحکم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ حماس نے ثالثوں کو واضح کر دیا ہے کہ جب تک اسرائیل کے مکمل انخلاء کی ضمانت نہیں دی جاتی، تب تک ہتھیاروں پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب حماس کے جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل پر حملے کیے، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں تباہ کن فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جس سے علاقے کا بڑا حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے اور آبادی کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہے۔ جنگ بندی کے باوجود دونوں فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -