-Advertisement-

بوشہر جوہری پلانٹ پر مسلسل حملے، خلیجی خطے میں تابکاری کے خدشات میں اضافہ

تازہ ترین

امریکی حراست میں ہلاک ہونے والے 19 سالہ میکسیکن نوجوان کی تدفین، اہل خانہ کے الزامات

امریکی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی حراست میں ہلاک ہونے والے انیس سالہ میکسیکن نوجوان روئیر پیریز جیمینیز...
-Advertisement-

ایران کے واحد فعال ایٹمی بجلی گھر بوشہر کو جاری امریکی و اسرائیلی تنازع کے دوران مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے پورے خلی خطے میں ایٹمی حادثے کے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایرانی جوہری توانائی آرگنائزیشن کے مطابق ہفتے کے روز پلانٹ کے قریب ہونے والے تازہ ترین حملے میں ایک سیکیورٹی گارڈ ہلاک اور ایک ضمنی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک بوشہر پلانٹ پر چار بار بمباری کی جا چکی ہے۔ انہوں نے جوہری تحفظ کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ بے حسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پلانٹ کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تو سیزیئم ایک سو سینتیس جیسے تابکار مادے فضا، مٹی اور پانی میں پھیل سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں دہائیوں تک انسانی صحت کو کینسر اور جلن جیسے سنگین خطرات لاحق رہیں گے۔ روس کی معاونت سے تعمیر ہونے والا یہ پلانٹ ایک ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں فراہم کرتا ہے جبکہ دو مزید یونٹس کی تعمیر دو ہزار انتیس تک مکمل کی جانی ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد پلانٹ پر تعینات سینکڑوں روسی عملے میں سے کچھ کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے خبردار کیا ہے کہ ری ایکٹر یا فیول اسٹوریج پر حملہ ایک علاقائی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسی صورت میں متاثرہ علاقوں سے انخلا، آئیوڈین کی تقسیم اور سینکڑوں کلومیٹر تک خوراک و پانی کی نگرانی ناگزیر ہو جائے گی۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ سمندری پانی میں تابکاری پھیلنے سے آبی حیات کو نقصان پہنچے گا اور ڈی سیلینیشن پلانٹس بند ہونے سے پینے کے پانی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت شہری جوہری تنصیبات پر حملہ ممنوع ہے۔ جنیوا کنونشن کے پروٹوکول ون کا آرٹیکل چھپن خطرناک قوتیں رکھنے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے روکتا ہے۔ تہران نے مغربی ممالک کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے زاپوریژیا پلانٹ پر حملوں کے برعکس بوشہر کے معاملے پر عالمی برادری کی خاموشی معنی خیز ہے۔ ماضی میں فوکوشیما اور چرنوبل کے ایٹمی حادثات دنیا کو ان تباہ کاریوں سے خبردار کر چکے ہیں جن سے انسانی آبادیوں کو طویل عرصے تک متاثر ہونا پڑتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -