متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی تصفیے کے لیے آبنائے ہرمز تک رسائی کی ضمانت لازمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ایسا معاہدہ کیا گیا جس میں ایران کے جوہری پروگرام، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کو محدود نہ کیا گیا تو یہ خطے کو مزید خطرناک اور غیر مستحکم بنا دے گا۔
انور قرقاش نے ایک بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کسی بھی صورت ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی کسی علاقائی سودے بازی کا حصہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گزرگاہ پر کسی ملک کو قبضے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نقل و حمل کی آزادی ہر تنازع کے تصفیے کا لازمی جزو ہونی چاہیے۔
متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشیر نے کہا کہ ان کا ملک جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن ایسی جنگ بندی کا حامی نہیں جو خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کو حل نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں دیکھنا چاہتے، لیکن ایسی وقتی خاموشی جو ایران کے جوہری پروگرام اور میزائلوں جیسے اہم مسائل کو نظر انداز کرے، خطے کے لیے پہلے سے زیادہ خطرناک ماحول پیدا کرے گی۔
انور قرقاش نے اعلان کیا کہ متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا کی قیادت میں کسی بھی بین الاقوامی کوشش کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے جس بدترین صورتحال کا خدشہ تھا، اب وہ حقیقت بن کر سامنے آ چکی ہے، تاہم اماراتی معیشت کی بنیادیں مضبوط ہیں اور ملک ان چیلنجز کا سامنا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ حکمت عملی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید مستحکم کر رہی ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی کردار اور اسرائیل کی موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انور قرقاش نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکا متحدہ عرب امارات کا مرکزی سیکیورٹی پارٹنر رہے گا اور علاقائی خطرات کے پیش نظر ابوظہبی واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرے گا۔
ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران اپنے ملک کے بجائے اپنے اقتدار کو بچانے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ انور قرقاش کے مطابق امارات ایران سے دشمنی نہیں چاہتا، لیکن موجودہ تہران حکومت پر اعتماد کرنا ناممکن ہے۔ انہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دینے پر بین الاقوامی برادری، بالخصوص فرانس اور امریکا کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے امارات کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں غیر معمولی تعاون کیا ہے۔
