-Advertisement-

ولادیمیر پیوٹن: عالمی سیاست میں ایک کلیدی اور فیصلہ کن شخصیت

تازہ ترین

امریکی پائلٹ کی بازیابی: صدر ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں اہم پریس کانفرنس کریں گے

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کی دوپہر ایک بجے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں...
-Advertisement-

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آج کی عالمی سیاست میں ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں جن کے فیصلوں کے اثرات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی نظام پر بھی گہرے مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں روس نے ایک ایسی ریاست کے طور پر دوبارہ اپنی جگہ بنائی ہے جو عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سن دو ہزار کے بعد جب پیوٹن نے اقتدار سنبھالا تو سوویت یونین کے بعد کا روس ایک کمزور ریاستی ڈھانچے، غیر مستحکم معیشت اور محدود عالمی اثر و رسوخ کا شکار تھا۔ ان حالات میں ان کی اولین ترجیحات میں ریاستی اداروں کی مضبوطی، سیاسی استحکام اور معیشت کی بحالی شامل تھی۔

ابتدائی برسوں میں روس نے اپنی معیشت کو تیل اور گیس جیسے اہم وسائل کے گرد منظم کیا۔ توانائی کے شعبے کو نہ صرف ریاستی آمدنی کا بڑا ذریعہ بنایا گیا بلکہ اسے عالمی منڈیوں میں روس کی اہمیت بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں قومی خزانہ مستحکم ہوا اور ایک ایسا معاشی ڈھانچہ تشکیل پایا جس نے طویل عرصے تک ملک کو سہارا دیا۔ ساتھ ہی وفاقی نظام کو مربوط بنا کر اندرونی استحکام کو یقینی بنایا گیا۔

دفاعی شعبے میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ روسی مسلح افواج کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، ہتھیاروں کے نظام کو اپ گریڈ کیا گیا اور فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں کی گئیں۔ نتیجتاً روس ایک بڑی فوجی طاقت کے طور پر عالمی منظرنامے پر دوبارہ نمودار ہوا۔

خارجہ پالیسی میں صدر پیوٹن نے کثیر الجہتی دنیا کے تصور پر مبنی ایک واضح اور آزادانہ نقطہ نظر اپنایا۔ اس حکمت عملی کے تحت روس نے چین، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی تاکہ مغربی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک متبادل سفارتی محور تشکیل دیا جا سکے۔

یوکرین تنازع پر روس کا موقف ہے کہ نیٹو کی مشرقی توسیع اس کی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ تھی۔ روسی نقطہ نظر کے مطابق اسی صورتحال نے خصوصی فوجی آپریشن کو جنم دیا جس کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ عالمی رائے اس مسئلے پر تقسیم ہے، تاہم روس اپنے اقدامات کو دفاعی اور تزویراتی ضرورت قرار دیتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے روس نے بڑی حد تک سفارتی حل اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ ماسکو کا موقف ہے کہ خطے میں بڑھتا ہوا تنازع عالمی استحکام کے لیے خطرناک ہے، اس لیے روس نے ثالث کے طور پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

فلسطین کے معاملے پر بھی روس کا موقف اہم ہے۔ پیوٹن اور روسی قیادت نے مستقل طور پر دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا ہے۔ ماسکو نے شہریوں کے تحفظ، فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔

ہر سال نو مئی کو یوم فتح کے موقع پر صدر پیوٹن کا خصوصی خطاب روسی تاریخ، قومی اتحاد اور عالمی سیاست میں بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کریملن سے دیا جانے والا یہ خطاب نہ صرف روسی عوام بلکہ عالمی مبصرین کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ اس سال بھی نو مئی کو متوقع خطاب میں یوکرین تنازع، عالمی کشیدگی اور روس کی مستقبل کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز رہنے کا امکان ہے۔

مجموعی طور پر صدر ولادیمیر پیوٹن کے دور میں روس نے داخلی استحکام، معاشی بحالی اور عالمی سطح پر ایک بااثر کردار حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ توانائی کی پالیسیوں، مستحکم ریاستی اداروں اور فعال خارجہ پالیسی نے روس کو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر دوبارہ صف اول میں لا کھڑا کیا ہے۔ آج کا روس نہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے بلکہ خود کو عالمی سیاست میں توازن قائم رکھنے والی ایک قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -