امریکی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی حراست میں ہلاک ہونے والے انیس سالہ میکسیکن نوجوان روئیر پیریز جیمینیز کی تدفین ہفتے کے روز ان کے آبائی علاقے میں کر دی گئی۔ اس موقع پر لواحقین نے نوجوان پر لگائے گئے الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
میکسیکو کی ریاست چیاپاس کے علاقے سان جوآن چامولا سے تعلق رکھنے والا روئیر سولہ مارچ کو فلوریڈا کے ایک حراستی مرکز میں ہلاک ہوا تھا۔ مقتول کے چچا مینوئل پیریز نے بتایا کہ ان کا بھتیجا محنتی نوجوان تھا جو پندرہ برس کی عمر میں بہتر مستقبل اور خاندان کی کفالت کے لیے امریکہ گیا تھا۔
مقتول کو جنوری میں گرفتاری کے دوران مزاحمت اور حکام کو غلط شناخت بتانے کے شبہے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم لواحقین کا کہنا ہے کہ روئیر کو انگریزی زبان پر عبور نہ ہونے کے باعث غلط فہمی ہوئی اور اسے بلاجواز مجرم قرار دے کر جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا۔
امریکی امیگریشن حکام نے روئیر کی موت کو بظاہر خودکشی قرار دیا ہے تاہم اس کی حتمی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔ مینوئل پیریز نے حکام کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خودکشی پر یقین نہیں بلکہ یہ قتل کا معاملہ معلوم ہوتا ہے، لہذا واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق حراستی مرکز میں داخلے کے وقت روئیر کا طبی معائنہ کیا گیا تھا جس میں اس نے خودکشی کے رجحانات سے متعلق سوالات کے نفی میں جواب دیے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران رواں برس اب تک چودہ مختلف ممالک کے تارکین وطن امریکی حراست میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ سن دو ہزار پچیس میں مجموعی طور پر اکتیس افراد کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
امریکی امیگریشن حکام کے مطابق فروری کے اوائل تک ملک بھر کے حراستی مراکز میں اڑسٹھ ہزار سے زائد افراد موجود تھے۔ سی بی ایس نیوز کے تجزیے کے مطابق سن دو ہزار پچیس میں حراست کے دوران اموات کی شرح دو ہزار بیس کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
