-Advertisement-

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی خوش آئند، برآمدی صنعتوں کے لیے حفاظتی اقدامات ناگزیر: صدر ایف پی سی سی آئی

تازہ ترین

بحر الکاہل میں سات روز سے لاپتہ خاندان کو امریکی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت بازیاب کر لیا

بحر الکاہل میں سات روز قبل لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کو امریکی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت بازیاب کر...
-Advertisement-

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو نصف کرنے کے حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی سے عوام اور کاروباری طبقے کو وقتی ریلیف ملا ہے تاہم ملکی معاشی استحکام کے لیے یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ حکومت کا پیٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر تک لانا صنعتکاروں کی مشکلات کے ادراک کا عکاس ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر نے خبردار کیا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اب بھی 520 روپے فی لیٹر کی سطح پر موجود ہے جو ملکی برآمدات کی عالمی مسابقت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ برآمدی شعبے کو ڈی انڈسٹریلائزیشن سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سیفٹی نیٹ تشکیل دیا جائے۔

عاطف اکرام شیخ کا کہنا ہے کہ فریٹ اور لاجسٹک اخراجات میں اضافے کے باعث ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ سیکٹر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اگر برآمد کنندگان کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف کا اہتمام نہ کیا گیا تو فیکٹریوں کی بندش اور بے روزگاری میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگون نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایس ایم ایز) شدید نقد رقم کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور صرف پیٹرول کی معمولی قیمتوں میں کمی ان کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت، بنگلہ دیش، چین اور ویتنام جیسے حریف ممالک نے توانائی کے بحران کو بہتر انداز میں سنبھالا ہے جس سے پاکستانی برآمد کنندگان عالمی منڈی میں پسپائی کا شکار ہو رہے ہیں۔

ثاقب فیاض مگون نے تجویز دی کہ برآمدی مینوفیکچرنگ کے لیے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو مکمل طور پر ختم کیا جائے اور متبادل توانائی کی طرف منتقلی کو تیز کیا جائے۔ فیڈریشن کی قیادت نے وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور وزارت پیٹرولیم سے ہنگامی مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدی شعبے کا تحفظ محض صنعتی ترجیح نہیں بلکہ قومی معاشی سلامتی کا تقاضا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -