-Advertisement-

جنگ زدہ حالات میں آزاد منڈی کے اصول غیر مؤثر ہو جاتے ہیں

تازہ ترین

بحر الکاہل میں سات روز سے لاپتہ خاندان کو امریکی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت بازیاب کر لیا

بحر الکاہل میں سات روز قبل لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کو امریکی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت بازیاب کر...
-Advertisement-

گزشتہ ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عمل متوقع نتائج کے ساتھ مکمل ہو گیا جس کے تحت حکومت نے تمام تر بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا ہے۔ ڈیزل پر لیوی صفر کر دی گئی جبکہ کسٹم ڈیوٹیز بدستور برقرار رکھی گئی ہیں۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود حکومت کے پاس سبسڈی برقرار رکھنے کے لیے مالی گنجائش موجود نہیں تھی تاہم موجودہ پالیسی کا طریقہ کار شدید تنقید کی زد میں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی معاشی دباؤ کے دوران پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی اور کسٹم ڈیوٹیز کو منجمد کیا جانا چاہیے تھا۔ حکومت کی جانب سے ایسا نہ کرنا ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کا خمیازہ ایندھن استعمال کرنے والے عام صارفین بھگت رہے ہیں۔

قیمتوں کے تعین کا موجودہ فارمولا بھی نقائص سے بھرپور ہے۔ ملک میں ڈیزل کی 75 فیصد پیداوار مقامی سطح پر ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود قیمتوں کا تعین درآمد شدہ ڈیزل کے عالمی نرخوں پر کیا جا رہا ہے جس سے ریفائنریز کو غیر معمولی منافع حاصل ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق خام تیل کی بنیاد پر قیمت کا تعین کرنا زیادہ مناسب اقدام ہوتا۔

اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے قبل کے مقابلے میں پیٹرول 43 فیصد اور ڈیزل 86 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ ڈالر کے اعتبار سے یہ خطے میں سب سے زیادہ قیمتیں ہیں۔ خدشہ ہے کہ اپریل سے جون کے دوران مہنگائی کی شرح 12 سے 14 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے پیٹرول کی لینڈڈ قیمت 140 ڈالر فی بیرل جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 262 ڈالر فی بیرل تھی، جبکہ خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔ مقامی ریفائنریز کو ڈیزل پر فی بیرل 110 ڈالر کا منافع ہو رہا ہے جو کہ معمول کے 10 ڈالر فی بیرل کے منافع سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ منافع دراصل براہ راست صارفین کی جیب سے نکالا جا رہا ہے۔

حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی سے ایندھن کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے تاہم ماہرین اسے مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریفائنریز کو معمول کا منافع یقینی بنا کر سپلائی چین کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اگر مقامی طور پر پیدا ہونے والے ڈیزل کے مارجن کو ریگولیٹ کیا جائے تو ڈیزل کی قیمت 460 روپے سے کم ہو کر 380 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ کسٹم ڈیوٹی میں کمی کے ذریعے مزید 35 روپے فی لیٹر تک ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف مالیاتی اعتبار سے غیر جانبدار ہوں گے بلکہ ٹرانسپورٹ، خوراک اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے طوفان کو بھی روکا جا سکے گا۔ حکومت کی جانب سے ونڈ فال ٹیکس کا تصور بھی درست نہیں کیونکہ اس سے مہنگائی کا اثر ختم نہیں ہوگا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح مقامی گیس کو سستے داموں مقامی صنعتوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے، اسی طرح مقامی سطح پر تیار ہونے والے ڈیزل کو بھی ریگولیٹ کیا جائے۔ موجودہ بحرانی کیفیت میں ترجیح ریفائنریز کے منافع کے بجائے عوام کی غذائی اور توانائی کی سکیورٹی ہونی چاہیے۔ جنگی حالات میں فری مارکیٹ کا تصور ایک عیاشی ہے اور حکومت کو وقتی طور پر ریگولیٹری اقدامات اپنانے ہوں گے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -