-Advertisement-

ایرانی صدر کا جنگ بندی سے انکار، 14 ملین رضاکاروں کی قربانی کے لیے تیاری کا دعویٰ

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف اور ولی عہد محمد بن سلمان کا ٹیلی فونک رابطہ، سعودی عرب سے اظہار یکجہتی

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس...
-Advertisement-

تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد محب وطن ایرانی شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ وہ خود بھی ان افراد میں شامل ہیں جو ایران کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری سفارتی پیش رفت کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

ایرانی قیادت نے عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے اپنے مطالبات پیش کر دیے ہیں۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ دشمنی کا مکمل خاتمہ کیا جائے، ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھائی جائیں اور اسرائیل اور امریکہ کے مبینہ حملوں سے ہونے والے نقصانات کا مکمل ہرجانہ ادا کیا جائے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سمجھوتہ قلیل مدتی وقفے کے بجائے خطے میں دیرپا استحکام کا ضامن ہونا چاہیے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مطالبات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

دریں اثنا ایران نے امریکہ کی جانب سے ملنے والی تجاویز کا جواب پاکستان کے توسط سے بھجوا دیا ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد کے سفارتی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کے حل کے لیے پس پردہ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔

موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عالمی و علاقائی طاقتوں کی جانب سے سفارتی کوششوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -