-Advertisement-

عراق میں مغوی امریکی صحافی شیلی کٹلسن بازیاب

تازہ ترین

امریکہ کا ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر اتفاق

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب اعلان کیا ہے کہ انہوں...
-Advertisement-

عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ کتیب حزب اللہ کی جانب سے اغوا کی جانے والی امریکی صحافی شیلی کٹلسن کو ایک ہفتے کی قید کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ عراقی حکومت کے دو ذرائع اور صورتحال سے باخبر ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ صحافی اب آزاد ہیں۔

کتیب حزب اللہ کے ترجمان نے ٹیلی گرام پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ صحافی کو اس شرط پر رہا کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر عراق چھوڑ دیں۔ تاہم ان کی موجودہ نقل و حرکت کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ملیشیا کے دو عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رہائی کا یہ عمل ایک سودے کے تحت مکمل ہوا جس میں عراقی حکام نے گروپ کے متعدد قید ارکان کو رہا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سے قبل عسکریت پسندوں کی جانب سے جاری کردہ ایک ڈھائی منٹ کی ویڈیو میں شیلی کٹلسن کو گفتگو کرتے دیکھا گیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق کتیب حزب اللہ نے شیلی کٹلسن کو ان صحافیوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا جنہیں اغوا یا قتل کا ہدف بنایا جانا تھا۔ امریکی حکومت نے انہیں اس مخصوص خطرے سے متعدد بار خبردار کیا تھا، یہاں تک کہ اغوا سے ایک رات قبل بھی انہیں انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

کولیشن فار ویمن ان جرنلزم کی بانی کرن نازش کے مطابق شیلی کٹلسن نے انتباہ کے باوجود عراق جانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ انہیں مقامی سطح پر سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ کٹلسن اس سے قبل بھی شام اور عراق کے مشکل حالات میں رپورٹنگ کا تجربہ رکھتی ہیں اور مستقل طور پر روم میں مقیم ہیں۔

اس رپورٹ کی تیاری میں ایسوسی ایٹڈ پریس کے علاوہ کارا ٹابچنک، پیٹ ملٹن، عمر عبدالقادر اور مارگریٹ برینن نے معاونت فراہم کی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -