-Advertisement-

پاکستان کی ثالثی کامیاب: ٹرمپ کا ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان

تازہ ترین

وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی بچت کی مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر پوری قوم کو توانائی...
-Advertisement-

پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت تہران کی جانب سے عارضی جنگ بندی قبول کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران کے بنیادی ڈھانچے، بشمول پلوں اور بجلی گھروں پر منصوبہ بند حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس شرط سے مشروط ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے بحال کرے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو دو طرفہ جنگ بندی قرار دیتے ہوئے ایران کی دس نکاتی تجاویز کو مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد قرار دیا۔

امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے انہیں تباہ کن حملوں سے گریز کرنے کی درخواست کی تھی۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے مہر نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔ بیان کے مطابق اس معاہدے کی منظوری ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے دی ہے اور اسے تہران کی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ اسرائیل نے بھی دو ہفتوں کی اس جنگ بندی میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے اور وہ اس دوران اپنی بمباری روک دے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز دس اپریل سے ہوگا۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ مذاکرات جنگ کے فوری خاتمے کی ضمانت نہیں ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی دس نکاتی تجاویز میں آبنائے ہرمز سے ایرانی نگرانی میں نقل و حمل، ایران اور اتحادی گروہوں کے خلاف فوجی آپریشن کا خاتمہ اور علاقائی اڈوں سے امریکی افواج کا انخلا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے تمام پابندیاں ہٹانے، معاوضے کی ادائیگی اور منجمد اثاثوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جہاں امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بارہ اعشاریہ صفر چار ڈالر یعنی دس اعشاریہ چھ چھ فیصد کمی کے بعد سو اعشاریہ نو صفر ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

یہ سفارتی کامیابی وزیراعظم شہباز شریف کی براہ راست اپیل کے بعد ممکن ہوئی۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے درخواست کی تھی کہ وہ ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں تاکہ سفارت کاری کو موقع مل سکے۔ وزیراعظم نے ایرانی قیادت سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ خیر سگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھول دیں۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ تمام فریقین جنگ بندی کا احترام کریں تاکہ جنگ کے حتمی خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -