-Advertisement-

پاکستان اور افغانستان کا تنازعات کے جامع حل کے لیے مذاکرات پر اتفاق: چین

تازہ ترین

سفارت کاری ناکام ہوئی تو امریکی فوج دوبارہ لڑائی کے لیے تیار ہے

واشنگٹن میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے پینٹاگون میں پریس کانفرنس سے خطاب...
-Advertisement-

چین کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ارومچی میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے گزشتہ اکتوبر سے جاری کشیدگی کے جامع حل تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے روزانہ کی بریفنگ میں بتایا کہ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا اقدام نہیں اٹھائیں گے جس سے حالات مزید پیچیدہ یا کشیدہ ہوں۔ چین نے یقین دلایا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں رہے گا اور مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتا رہے گا۔

ارومچی میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے دوران پاکستان نے افغان طالبان کے سامنے اپنے تین بنیادی مطالبات رکھے ہیں۔ اسلام آباد کا مطالبہ ہے کہ کابل حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو باقاعدہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے، اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرے اور ان اقدامات کے ناقابل تردید ثبوت فراہم کرے۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان نے اپنے مذاکراتی موقف کو مزید سخت کر دیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے گزشتہ ہفتے بتایا کہ آپریشن غضب الحق کے دوران اب تک 796 افغان طالبان ہلاک اور 1043 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ آپریشن افغان سرحد سے بلا اشتعال کارروائیوں کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔ آپریشن کو عید الفطر کے موقع پر کچھ عرصے کے لیے روکا گیا تھا، تاہم 23 اور 24 مارچ کی درمیانی شب یہ دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق آپریشن کے دوران اب تک 286 چیک پوسٹیں تباہ اور 44 پر سیکیورٹی فورسز نے قبضہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں میں 249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کی گئی ہیں، جبکہ 81 مقامات کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مزید کہا کہ 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا، جس میں 37 دہشت گرد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -