امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ہنگری کے دورے کے دوران یورپی رہنماؤں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین تنازع ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ کوششیں نہیں کر رہے۔ انہوں نے اس جنگ کو حل کرنے کے لیے اب تک کا سب سے مشکل ترین معاملہ قرار دیا۔
وینس نے ہنگری میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی قیادت کا رویہ مایوس کن ہے کیونکہ وہ اس تنازع کو حل کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ فریقین کے موقف میں وقت کے ساتھ ساتھ قربت پیدا ہوئی ہے اور کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے، تاہم یہ جنگ اب اپنی افادیت کھو چکی ہے۔
امریکی نائب صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا چند کلومیٹر رقبے کے حصول کے لیے لاکھوں روسی اور یوکرینی نوجوانوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا، یا مزید مہینوں اور سالوں تک توانائی کے بحران اور معاشی تباہی کا سامنا کرنا سودمند ہے؟ انہوں نے زور دیا کہ امن کے قیام کے لیے دونوں فریقین کا تعاون ناگزیر ہے۔
اس موقع پر انہوں نے ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان کی کھل کر تعریف کی اور انہیں تنازع کے حل کے لیے سب سے زیادہ مددگار قرار دیا۔ وینس نے کہا کہ اوربان نے ہی انہیں یوکرین اور روس دونوں کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور تنازع کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کا ادراک کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
ادھر یوکرین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ روس پر دباؤ ڈالے تاکہ اس حملے کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ واشنگٹن کا جنگ بندی معاہدہ امریکی عزم اور کامیابی کی واضح مثال ہے، جس کی پیروی یوکرین میں بھی کی جانی چاہیے۔
واضح رہے کہ جے ڈی وینس ہنگری میں اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل وزیراعظم وکٹر اوربان کی حمایت کے لیے وہاں موجود ہیں۔ اوربان کو اپنے سولہ سالہ اقتدار کے دوران پہلی بار سخت انتخابی چیلنج کا سامنا ہے۔
