واشنگٹن میں میساچوسٹس کے ایک وفاقی جج نے ایتھوپیا کے تارکین وطن کو حاصل عارضی تحفظ کی حیثیت (ٹی پی ایس) ختم کرنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ جج برائن مرفی نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سابقہ ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کے وضع کردہ قانونی عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی۔
عدالتی حکم نامے میں جج برائن مرفی نے ریمارکس دیے کہ امریکی آئینی نظام میں صدر کی مرضی کانگریس کے فیصلوں پر فوقیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی خواہشات سرکاری اداروں کی قانونی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں ہو سکتیں اور اس معاملے میں وفاقی حکومت نے کانگریس کی جانب سے بنائے گئے قانونی ڈھانچے کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے دور میں سنہ 2022 سے ہزاروں ایتھوپین تارکین وطن کو یہ حیثیت دی گئی تھی جس کے تحت وہ مسلح تنازعات، قدرتی آفات یا انسانی بحرانوں کے باعث اپنے ملک واپس جانے کے بجائے امریکہ میں رہائش اور کام کرنے کے اہل تھے۔ اس حیثیت میں سنہ 2024 میں توسیع بھی کی گئی تھی۔ تاہم محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ ایتھوپیا اب ان شرائط پر پورا نہیں اترتا اور یہ تحفظ 13 فروری کو ختم کر دیا جائے گا۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس عدالتی فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے جوڈیشل ایکٹیوزم قرار دیا ہے۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایتھوپیا کے حالات بہتر ہو چکے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ امریکی قانونی امیگریشن نظام کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور دھچکا ہے جو امیگریشن پر کریک ڈاؤن کے تحت 13 ممالک کے شہریوں کے لیے یہ حیثیت ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس معاملے پر مزید قانونی جنگ جاری ہے اور سپریم کورٹ اپریل کے آخر میں شام اور ہیٹی کے شہریوں کی حیثیت سے متعلق حکومتی کوششوں پر دلائل سنے گی۔
