پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچے گا۔ یہ وفد امریکہ کے ساتھ اہم مذاکرات میں شرکت کرے گا جن کی بنیاد ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکاتی امن فارمولے پر ہوگی۔
ایرانی سفیر کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایرانی عوام کو اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات ہیں۔ تہران کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہیں۔
رضا امیری مقدم نے واضح کیا کہ ایرانی وفد اپنے امن منصوبے پر عمل درآمد اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے تسلسل میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔
امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک بھی تین رکنی اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وانس کریں گے جبکہ وفد میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس وفد کا بنیادی مشن خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ مذاکرات کا پہلا دور ہفتے کی صبح اسلام آباد میں شروع ہوگا جس میں دونوں ممالک ایران اور امریکہ کے مابین تنازع کے مرکزی نکات پر بات چیت کریں گے۔
