ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جمعہ کی شب اسلام آباد پہنچ گیا ہے جہاں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتہ وار جنگ بندی کے بعد کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جن کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد پہنچنے پر ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وفد کا استقبال کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہفتے کی سہ پہر سے متوقع ہے، تاہم یہ عمل تہران کی جانب سے عائد کردہ پیشگی شرائط بالخصوص لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے مشروط ہے۔
ایرانی وفد 71 ارکان پر مشتمل ہے جن میں مذاکرات کار، تکنیکی مشیر، سیکیورٹی اہلکار اور میڈیا نمائندگان شامل ہیں۔ وفد کے اہم ارکان میں مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، سپریم نیشنل ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، ڈپٹی وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جن کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جسے ایران نے جاری کشیدگی کے باعث محدود کر رکھا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سفارتکاری کے اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ ان کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق سیکریٹری جنرل نے ان مذاکرات کو کشیدگی میں کمی اور نئے تنازع کو روکنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جین آرنالٹ اس وقت تہران میں موجود ہیں اور سفارتی کوششوں میں معاونت کے لیے خطے میں قیام جاری رکھیں گے، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ان کی شرکت کے حوالے سے کوئی حتمی منصوبہ جاری نہیں کیا گیا۔
