متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دو برسوں کے دوران ملک کے سرکاری شعبوں، خدمات اور آپریشنز کا پچاس فیصد حصہ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے خودکار نظام کے تحت چلایا جائے گا۔
اس نئے ماڈل کا افتتاح نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی خصوصی ہدایات پر کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد متحدہ عرب امارات دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا جو اتنے وسیع پیمانے پر حکومتی امور چلانے کے لیے خودمختار اور فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھنے والی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرے گا۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اپنے بیان میں کہا کہ مصنوعی ذہانت اب محض ایک آلہ نہیں رہی بلکہ یہ حقیقی وقت میں ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، فیصلے کرنے، ان پر عمل درآمد کرنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ایک انتظامی ساتھی کے طور پر کام کرے گی جس سے سرکاری امور کی رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
حکومت نے اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے دو سال کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ اس دوران کارکردگی کو اپنانے کی رفتار، عمل درآمد کے معیار اور عوامی خدمات کی تشکیل نو کے پیمانوں پر پرکھا جائے گا۔ اس تاریخی تبدیلی کے حصے کے طور پر تمام وفاقی ملازمین کو مصنوعی ذہانت کی خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کی جا سکے۔
اس پروگرام کی نگرانی شیخ منصور بن زاید کریں گے جبکہ محمد القرقاوی کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹاسک فورس اس کے عملی نفاذ کی ذمہ دار ہوگی۔ حکام کے مطابق اس تبدیلی کا بنیادی مقصد ایک تیز رفتار، مستعد اور شہریوں پر مرکوز حکومت کا قیام ہے، جس میں تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی ضروریات کو بھی مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔
