-Advertisement-

ایران جنگ کے باعث ایندھن مہنگا، عالمی امدادی سرگرمیوں میں کمی کا خدشہ

تازہ ترین

جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، شہداء کی تعداد 71 ہزار سے تجاوز کر گئی

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی...
-Advertisement-

ناروے کی ریفیوجی کونسل کے سربراہ جان ایگلینڈ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے عالمی سطح پر تباہ کن انسانی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث امدادی ٹرکوں کے ایندھن، ملازمین کی تنخواہوں اور بے گھر افراد کے لیے خوراک کی خریداری انتہائی مہنگی ہو گئی ہے۔

اوسلو میں غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جان ایگلینڈ نے بتایا کہ ان کی تنظیم کے پاس پندرہ سو گاڑیاں ہیں جو ڈیزل پر چلتی ہیں اور اب ان کے اخراجات دگنے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں شمسی توانائی کی سہولت موجود نہیں وہاں جنریٹرز کے ذریعے اسکولوں اور اسپتالوں کو چلانا ناقابل برداشت حد تک مہنگا ہو گیا ہے۔

ایگلینڈ کے مطابق امدادی سامان کی خریداری اور مقامی عملے کی تنخواہوں کے اخراجات میں اضافے کے باعث اب تنظیم کم لوگوں کی مدد کرنے پر مجبور ہے، جبکہ دوسری جانب امداد کی ضرورت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بیشتر عطیہ دہندہ ممالک نے اپنی فنڈنگ دفاعی بجٹ کی طرف منتقل کر دی ہے۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جان ایگلینڈ نے بتایا کہ اسرائیلی حکام کے ساتھ تنازع کے بعد نارویجن ریفیوجی کونسل کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے۔ تنظیم اب اپنے بین الاقوامی عملے کو غزہ نہیں بھیج سکتی اور انہیں اپنا ہیڈکوارٹر عمان منتقل کرنا پڑا ہے جہاں سے دور دراز سے انتظامی امور چلائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے کو سراہتے ہوئے اسے جنگ بندی کے لیے اہم قرار دیا، تاہم خبردار کیا کہ یہ منصوبہ شدید خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی فوجی موجودگی، گھروں کی مسماری، حماس کا غیر مسلح نہ ہونا اور امدادی گروپوں کو رسائی نہ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امن کا قیام ابھی بھی دور ہے۔

اسرائیل غزہ میں امدادی سامان روکنے کے الزامات کی تردید کرتا ہے، تاہم فلسطینیوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں کا موقف ہے کہ جنوری میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں پہنچنے والی امداد دو ملین سے زائد آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -