لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک صحافی کی ہلاکت کو وزیراعظم لبنان نے جنگی جرم قرار دیا ہے۔ صحافیوں کی یونین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ کے باعث امدادی ٹیمیں چار گھنٹے تک ملبے تلے دبی صحافی تک نہ پہنچ سکیں جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئیں۔
لبنانی اخبار الاخبار سے وابستہ تینتالیس سالہ صحافی امل خلیل اس وقت ہلاک ہوئیں جب اسرائیلی ڈرون نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ واقعے میں فوٹو جرنلسٹ زینب فرج بھی زخمی ہوئیں۔ لبنانی صحافی یونین کے مطابق اسرائیلی فوج نے جائے وقوعہ پر پہنچنے والی ریڈ کراس کی ایمبولینس پر بھی فائرنگ کی اور دستی بم پھینکا جس سے انسانی ہمدردی کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔
وزیراعظم لبنان نواف سلام نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان میں میڈیا ورکرز کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اب کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ حکمت عملی بن چکی ہے جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فوج صحافیوں کو ہدف نہیں بناتی اور وہ اپنے فوجیوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق انہوں نے ان گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو حزب اللہ کے ایک عسکری ڈھانچے سے نکلی تھیں اور ان کے فوجیوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھیں۔
لبنانی وزارت صحت نے اسے دوہرا جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے پہلے صحافیوں کو نشانہ بنایا اور پھر زخمیوں کو نکالنے کے لیے آنے والی ایمبولینس کو روکا۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوج سے ایمبولینس کو گزرنے دینے کی اپیل کی تھی۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے اب تک کم از کم دو سو ساٹھ میڈیا ورکرز ہلاک ہو چکے ہیں۔ امل خلیل کی ہلاکت کے بعد ان کی ایک پرانی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی تھیں کہ ان کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔
جمعرات کو امل خلیل کی میت کو ان کے آبائی علاقے بیسریا میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس موقع پر واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان دس روزہ جنگ بندی میں توسیع پر بات چیت بھی جاری ہے تاہم دونوں جانب سے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
