ایران کے سابق شاہ کے صاحبزادے رضا پہلوی نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف جاری جنگ میں شامل ہوں۔ برلن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جرمن حکومت کی جانب سے ملاقات نہ کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی جمہوریتیں محض تماشائی بنی ہوئی ہیں جبکہ ایران میں مظاہرین کا خون بہایا جا رہا ہے۔
رضا پہلوی نے دعوی کیا کہ ایران میں تبدیلی ناگزیر ہے اور سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ جب تک یہ تبدیلی آئے گی کتنی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہوں گی۔ انہوں نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی حکومت کے رویے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری ممالک کو اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ہر فریق سے بات کرنی چاہیے۔
برلن میں رضا پہلوی کی آمد کے موقع پر ان کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے مظاہرے کیے گئے۔ اس دوران ایک شخص نے ان پر سرخ رنگ کا مائع پھینکا جسے پولیس نے حراست میں لے لیا۔ رضا پہلوی اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جلاوطنی میں گزار چکے ہیں اور گزشتہ برس ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد وہ ایک ممکنہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔
تاہم ایرانی اپوزیشن کی تحریکیں تاحال شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ مغربی ممالک اس حوالے سے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ یہ واضح نہیں ہے کہ انہیں عوام میں کتنی حمایت حاصل ہے۔ جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اٹھائیس فروری کو فضائی حملوں کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں۔ فی الحال تنازع کو ختم کرنے کی تمام کوششیں تعطل کا شکار ہیں جبکہ ایران اور امریکا دونوں جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
