-Advertisement-

نیویارک کے میئر کا شاہ چارلس سے کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کا مطالبہ

تازہ ترین

غزہ جانے والے امدادی جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکے جانے کا دعویٰ

غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو یونان کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں...
-Advertisement-

نیویارک شہر کے میئر زوران ممدانی نے برطانوی بادشاہ کنگ چارلس کے دورہ امریکہ کے دوران مطالبہ کیا ہے کہ کوہ نور ہیرا واپس کیا جائے۔ بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بھارتی نژاد امریکی میئر زوران ممدانی نے کہا کہ اگر انہیں برطانوی بادشاہ سے تنہائی میں بات کرنے کا موقع ملے تو وہ انہیں کوہ نور ہیرا واپس کرنے کی ترغیب دیں گے۔

یہ بیان نائن الیون کے حملوں کے متاثرین کی یاد میں منعقدہ تقریب سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا۔ اسی روز بعد ازاں کنگ چارلس اور میئر زوران ممدانی کی تقریب کے دوران ملاقات بھی ہوئی تاہم بکنگھم پیلس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ میئر کے دفتر نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا ملاقات کے دوران انہوں نے بادشاہ کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا یا نہیں۔

بھارت طویل عرصے سے ایک سو پانچ قیراط وزنی اس ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے ۱۸۴۹ میں پنجاب پر قبضے اور ایک معزول بھارتی حکمران سے ہیرے کے حصول کے بعد، برطانوی نوآبادیاتی گورنر جنرل نے ۱۸۵۰ میں یہ ہیرا ملکہ وکٹوریہ کو پیش کیا تھا۔

کنگ چارلس نے بدھ کے روز نائن الیون حملوں کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ پر قائم میموریل پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ بھارت میں برطانوی نوآبادیاتی دور اور اس دوران ہونے والے مظالم اب بھی انتہائی حساس موضوعات سمجھے جاتے ہیں۔

بھارتی حکومت کا موقف رہا ہے کہ یہ ہیرا ان کی قومی تاریخ کی ایک اہم علامت ہے۔ بہت سے بھارتی باشندے برطانوی قبضے میں موجود اس ہیرے کو نوآبادیاتی دور کے مظالم کی نشانی قرار دیتے ہیں۔ تاریخی شاہی محلات کی چیریٹی کے مطابق یہ ہیرا ماضی میں مغل شہنشاہوں، ایران کے شاہوں، افغانستان کے امراء اور سکھ مہاراجوں کی ملکیت بھی رہ چکا ہے۔ بھارت نے ۱۹۴۷ میں برطانوی راج سے آزادی حاصل کی تھی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -