-Advertisement-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست مندی، انڈیکس 4800 پوائنٹس سے زائد گر گیا

تازہ ترین

غزہ جانے والے امدادی جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکے جانے کا دعویٰ

غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو یونان کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں...
-Advertisement-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا اور کاروبار کے ابتدائی اوقات میں ہی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں چار ہزار 800 پوائنٹس سے زائد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ انڈیکس 2 اعشاریہ 9 فیصد کمی کے ساتھ 161 ہزار 11 اعشاریہ 70 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔

مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز انڈیکس 165 ہزار 823 اعشاریہ 87 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، تاہم آج کاروبار کے دوران انڈیکس 164 ہزار 357 اعشاریہ 47 کی بلند ترین اور 160 ہزار 391 اعشاریہ 18 پوائنٹس کی نچلی سطح تک گیا۔ اس دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے 161 اعشاریہ 18 ملین شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 12 اعشاریہ 02 ارب روپے رہی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میکرو اکنامک اشاریوں پر خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے منافع بخش شیئرز کی فروخت کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں مارکیٹ پر دباؤ بڑھا۔ کاروباری سیشن کے آغاز سے ہی تمام بڑے سیکٹرز میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جس نے انڈیکس کو نیچے دھکیل دیا۔

اس سے قبل بدھ کے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی رہی۔ سرمایہ کار نئی پوزیشنز لینے سے گریزاں نظر آئے جس کے باعث انڈیکس 2 ہزار 588 اعشاریہ 35 پوائنٹس یعنی 1 اعشاریہ 54 فیصد کمی کے بعد 165 ہزار 823 اعشاریہ 88 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

بدھ کے روز کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنری سیکٹرز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق ہیوی ویٹ کمپنیوں کے مالیاتی نتائج توقعات کے مطابق نہ ہونے کے باعث مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ بدھ کو مجموعی طور پر 79 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی جبکہ صرف 21 میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ملت ٹریکٹرز میں 4 اعشاریہ 08 فیصد، چیراٹ سیمنٹ میں 2 اعشاریہ 69 فیصد اور ڈی جی خان سیمنٹ میں 1 اعشاریہ 63 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب یو بی ایل، نیشنل بینک اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی کے حصص انڈیکس کو نیچے لانے والی بڑی کمپنیوں میں شامل رہے۔ اس رپورٹ کی اشاعت تک مارکیٹ میں مندی کا تسلسل جاری تھا اور انڈیکس بحالی کے لیے کوشاں دکھائی دیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -