-Advertisement-

پوپ فرانسس کا ٹرمپ کی تنقید پر ردعمل، امن اور انجیل کی تبلیغ پر زور

تازہ ترین

ایران کا امریکا کے ساتھ جامع معاہدے کے حصول کے لیے آمادگی کا اظہار

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ ژی سے ملاقات کے بعد...
-Advertisement-

پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انجیل کی تبلیغ اور امن کے فروغ کا مشن جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہر فرد کو ان پر تنقید کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ بیان ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ کے خلاف مسلسل بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ پوپ ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کو قابل قبول سمجھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پوپ لیو نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا تاہم وہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کی مخالفت کرتے رہے ہیں جس پر امریکی صدر نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ پوپ نے رواں ہفتے اپنے خطاب میں کہا کہ چرچ کا مشن امن اور انجیل کا پیغام پہنچانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس کوشش پر ان پر تنقید کی جاتی ہے تو بھی وہ امید رکھتے ہیں کہ خدا کے کلمات کی اہمیت کی وجہ سے ان کی بات سنی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو دو روزہ دورے پر ویٹیکن پہنچے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات چیت کرنا ہے۔ مارکو روبیو نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ یہ دورہ ٹرمپ اور ویٹیکن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہے اور اسے معمول کی سفارتی سرگرمی قرار دیا۔

ہولی سی کے لیے امریکی سفیر برائن برچ نے بھی واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اور ویٹیکن کے درمیان کوئی گہرا تنازع نہیں ہے اور بات چیت کے ذریعے اختلافات دور کیے جا سکتے ہیں۔ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی پوپ کا دفاع کیا ہے اور مشرق وسطیٰ کے تنازع پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں خارجہ پالیسی کے حوالے سے کمزور قرار دیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویٹیکن کو اخلاقی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک ایسی تصویر بھی پوسٹ کی تھی جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -