-Advertisement-

عورت مارچ کے شرکاء پر تشدد: سندھ حکومت نے تین پولیس افسران کو معطل کر دیا

تازہ ترین

ایران کا امریکی تجویز کا جائزہ، جواب پاکستان کے ذریعے بھجوایا جائے گا

تہران نے تصدیق کی ہے کہ وہ دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے...
-Advertisement-

حکومت سندھ نے کراچی پریس کلب کے باہر عورت مارچ کی منتظمین اور شرکاء کے ساتھ بدسلوکی اور گرفتاری کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تین پولیس افسران کو معطل کر دیا ہے۔

یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا جب ممتاز فنکارہ شیما کرمانی اور ان کے ساتھی دس مئی کو ہونے والے عورت مارچ کے حوالے سے پریس کانفرنس کے لیے کراچی پریس کلب پہنچے تھے۔ اس دوران ساؤتھ پولیس نے مبینہ طور پر تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیما کرمانی سمیت پندرہ انسانی حقوق کی کارکنوں کو حراست میں لے کر آرٹلری میدان تھانے منتقل کر دیا تھا۔ بعد ازاں اعلیٰ حکام کی مداخلت پر انہیں رہا کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بعد تحقیقات مکمل کی گئیں، جس میں یہ بات ثابت ہوئی کہ ساؤتھ پولیس نے یہ کارروائی اپنے اعلیٰ حکام کی منظوری کے بغیر کی تھی۔ واقعے کی ویڈیو فوٹیج اور تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان ندیم حیدر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے مطابق اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے وقار اور حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری رہیں گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -