واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کانگریس کے رکن ایل گرین نے ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا ہے۔ بدھ کے روز پیش کی جانے والی اس قرارداد میں پاکستان کو ایک غیر جانبدار اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ تباہ کن تنازعے کے دوران پاکستان کا کردار امن کی بحالی کے لیے انتہائی اہم رہا ہے۔ اس تنازعے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات، نقل مکانی اور عالمی برادری پر پڑنے والے مالی بوجھ کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششیں قابل ستائش ہیں۔
کانگریس مین ایل گرین نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ اور انسانی تکالیف کے اس دور میں ہمیں ان کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے جو امن کے قیام کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا غیر جانبدار شراکت دار کے طور پر کردار ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ایل گرین کا کہنا تھا کہ ان کوششوں کو سراہتے ہوئے ہم تباہی کے بجائے بات چیت کے ذریعے امن کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں تاکہ تنازعے سے متاثرہ معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
دوسری جانب دفتر خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا سکتیں، تاہم پاکستان اس معاملے میں مثبت پیش رفت کے لیے پرامید ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس ممکنہ معاہدے کی نوعیت کیا ہوگی اور آیا یہ ایک مختصر دستاویز پر مشتمل ہوگا یا طویل معاہدہ طے پائے گا۔
