-Advertisement-

امریکہ اور ایران کے درمیان جھڑپ، ٹرمپ کا جنگ بندی برقرار رہنے کا دعویٰ

تازہ ترین

چین: آتش بازی کے کارخانے میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی

چین کے صوبے ہونان میں آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے نتیجے...
-Advertisement-

واشنگٹن اور دبئی میں جاری کشیدگی کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات تاحال پٹری پر موجود ہیں اور جنگ بندی برقرار ہے۔ جمعرات کے روز امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جھڑپیں گزشتہ ایک ماہ سے قائم جنگ بندی کے لیے سب سے بڑا امتحان ثابت ہوئیں۔

امریکی صدر نے واشنگٹن میں لنکن میموریل کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی بدستور نافذ العمل ہے۔ انہوں نے جھڑپوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جس کا ہم نے بھرپور جواب دیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام کا الزام ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے دو بحری جہازوں اور ایرانی علاقے کو نشانہ بنایا۔ ایران کے جوائنٹ ملٹری کمانڈ کے مطابق امریکی حملوں میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا اور قشم جزیرے سمیت بندر خمیر اور سرک کے ساحلی علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے۔

جوابی کارروائی کے حوالے سے ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے مشرق اور چاہ بہار کی بندرگاہ کے جنوب میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کے حملوں سے امریکی اثاثوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کسی بھی نقصان کی تردید کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان جاری کیا کہ ایران نے تین امریکی ڈسٹرائر جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں کا استعمال کیا۔ امریکا نے جوابی کارروائی میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سینٹ کام کا مزید کہنا تھا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے لیکن امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مکمل تیار ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق کئی گھنٹوں کی کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز سے ملحقہ جزائر اور ساحلی شہروں میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ ہوا تو بلا تاخیر بھرپور جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب واشنگٹن ایران کی جانب سے ایک امریکی تجویز کے جواب کا منتظر ہے۔ اس تجویز میں لڑائی روکنے پر زور دیا گیا ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہے، اور اس معاملے پر کسی بھی وقت معاہدہ ممکن ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -