جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ یورپ نیٹو اتحاد کو فعال رکھنے کے لیے پرعزم ہے، اگرچہ ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان گہرے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ اسٹاک ہوم میں سویڈش وزیراعظم الف کرسٹرسن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیٹو کا مستقبل محفوظ بنانا یورپی ممالک کی ترجیح ہے۔
امریکہ اور یورپ کے درمیان دفاعی اخراجات اور امیگریشن پالیسیوں جیسے معاملات پر پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی تھی، تاہم فروری کے آخر میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ میں یورپی ممالک کی حمایت نہ کرنے کے فیصلے نے اس خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ جرمن چانسلر نے اعتراف کیا کہ اتحاد کو چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ان کا حتمی مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جرمنی کو تنقید کا نشانہ بنانے اور پانچ ہزار امریکی فوجی واپس بلانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے فریڈرک مرز نے کہا کہ اصل مسئلہ فوجیوں کی تعداد نہیں بلکہ مقصد میں یکجہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپ اب بھی امریکی عسکری تعاون کا خواہاں ہے اور اس اتحاد کو برقرار رکھنا دونوں فریقین کے مفاد میں ہے۔
فریڈرک مرز نے مزید کہا کہ سویڈن اور فن لینڈ کی شمولیت نے نیٹو کے یورپی ستون کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس کی جانب سے لاحق خطرات کے پیش نظر جرمنی سمیت یورپی ممالک اپنی عسکری طاقت کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔
ماسکو میں دوسری جنگ عظیم کی فتح کے حوالے سے ہونے والی پریڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے جرمن چانسلر نے سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو کے دورہ ماسکو پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اگرچہ رابرٹ فیکو ماسکو پہنچے تھے، تاہم اطلاعات کے مطابق وہ فوجی پریڈ میں شامل نہیں ہوئے۔
