-Advertisement-

سوات: مہوڈنڈ جھیل جانے والے سیاحوں کو روکنے کے خلاف مقدمہ درج

تازہ ترین

ای پی زیڈ ڈیوٹی اسٹرکچر کے باعث دوہرا ٹیکس عائد، صنعت کاروں کو شدید مشکلات کا سامنا

نیشنل اسٹیل کمپلیکس لمیٹڈ کے وفد نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقات کی جس میں صنعتی...
-Advertisement-

سوات میں سیاحوں کو مہوڈنڈ جھیل جانے سے روکنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے پیر کے روز قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کے اہم سیاحتی مقام پر سیاحوں کی سکیورٹی کے حوالے سے شدید تحفظات پیدا ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق نجی کوسٹرز اور ٹور گاڑیوں میں مہوڈنڈ جھیل جانے والے سیاحوں کو مقامی افراد نے زبردستی روک لیا اور اصرار کیا کہ وہ مقامی ٹرانسپورٹ سروس کا استعمال کریں۔ اس کشیدگی کے دوران سیاحوں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کی دھمکیاں بھی دی گئیں جس کے باعث کئی سیاحتی قافلے سفر ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ متاثرہ سیاحوں میں سرگودھا یونیورسٹی کے طلبہ بھی شامل تھے جو اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت نے ضلعی پولیس افسر عمر گنڈاپور کے ساتھ مل کر ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی۔ اس سلسلے میں تھانہ کالام میں تقریباً 30 نامعلوم افراد کے خلاف سیاحوں کو ہراساں کرنے اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ سیاحوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے یا سیاحوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انتظامیہ نے وضاحت کی کہ کالام اور مہوڈنڈ جھیل سمیت سوات کے کسی بھی سیاحتی مقام پر سیاحوں کی آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں ہے اور سیاح اپنی پسند کی گاڑیوں میں سفر کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

ڈی پی او عمر گنڈاپور نے کہا کہ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری ایکشن لیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاحوں کو خوفزدہ کرنے اور خطے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر سلیم جان مروت نے سیاحوں اور مقامی باشندوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ یا پولیس کو دی جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی جس کے بعد حکام نے سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مربوط اقدامات کا اعادہ کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -