وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے اضلاع میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ریونیو، ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کے ویژن کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر مالی خود مختاری کو مستحکم کرنا اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔
لاہور میں کمشنرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ مریم نواز نے واضح کیا کہ دفتری فائلوں تک محدود رہنے کے بجائے افسران کو فیلڈ میں متحرک ہونا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نمائشی کاموں کے بجائے زمینی حقائق پر مبنی ترقی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
فیصل آباد میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے گڑھے میں گر کر تین سالہ بچی کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر وزیراعلیٰ نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ اگر کوئی شہری کسی مین ہول میں گرا تو ذمہ دار ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کو گرفتار کیا جائے گا۔ تمام نجی سوسائٹیز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ماہانہ حلف نامہ جمع کرائیں کہ ان کی حدود میں کوئی کھلا مین ہول موجود نہیں ہے۔
ساہیوال ڈویژن کے لیے چار ارب روپے کے مقامی فنڈز کی دستیابی پر ایک ارب بارہ کروڑ روپے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ اس میں 862 ملین روپے کی لاگت سے 18.8 کلومیٹر طویل 10 بڑی سڑکوں کی تعمیر ستمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اوکاڑہ اور پاکپتن کے لیے بھی مختلف روڈز، سولر اسٹریٹ لائٹس اور اسپورٹس کمپلیکس کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
سرگودھا ڈویژن کے لیے دو ارب اسی کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کی منظوری دی گئی ہے جس میں شاہ پور لک موڑ روڈ، یونیورسٹی روڈ پر پیدل چلنے والوں کا پل اور سیف سٹی کیمروں کی تنصیب شامل ہے۔ ان تمام منصوبوں کی تکمیل کے لیے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
فیصل آباد ڈویژن کے لیے پانچ ارب تیس کروڑ روپے کی لاگت سے 59 منصوبے شروع ہوں گے جن میں 81 کلومیٹر طویل 38 سڑکیں شامل ہیں۔ ملتان ڈویژن میں تین ارب روپے کی لاگت سے 28 منصوبے مکمل کیے جائیں گے جن میں گھنٹہ گھر سے چونگی نمبر 9 تک سڑکوں کی اپ گریڈیشن نمایاں ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے زور دیا کہ ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمشنرز حکومت کی آنکھ، کان اور بازو ہیں، لہذا معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب ترقی کے ایک نئے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں عوامی سہولت سب سے اہم ہے۔
