برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، کیونکہ ان کی اپنی لیبر پارٹی کے درجنوں قانون سازوں نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سٹارمر نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اصلاحاتی ایجنڈے پر کام جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تو ملک انتشار اور عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔
رواں سال کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے باوجود سٹارمر کو مقامی انتخابات میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد ان کی پارٹی کے اندر سے قیادت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اب تک تقریباً ایک چوتھائی قانون ساز ان کے استعفے کا مطالبہ کر چکے ہیں اور چند جونیئر وزراء احتجاجاً اپنے عہدوں سے دستبردار ہو چکے ہیں، تاہم ابھی تک کسی بڑے حریف نے باضابطہ طور پر قیادت کو چیلنج نہیں کیا ہے۔
منگل کی شام ایک بیان میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برطانیہ ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ایک طرف ایک مضبوط اور منصفانہ ملک کی تعمیر کا منصوبہ ہے اور دوسری طرف ماضی کا انتشار اور عدم استحکام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ برطانوی عوام حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے کام جاری رکھے، جس میں مہنگائی میں کمی، ہسپتالوں میں انتظار کی فہرستوں کو کم کرنا اور ملک کو محفوظ بنانا شامل ہے۔
سیاسی بحران کے باوجود کیئر سٹارمر بدھ کے روز پارلیمنٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے، جس کی قیادت بادشاہ چارلس کریں گے۔ اس موقع پر حکومت اپنی سالانہ ترجیحات اور قانون سازی کا ایجنڈا پیش کرے گی۔ حکومت کے مطابق 35 سے زائد بلوں پر مشتمل یہ پیکیج معیشت کی بہتری اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہوگا۔
تاہم سٹارمر کے سیاسی مستقبل کی طرح اس ایجنڈے کا نفاذ بھی غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اگر وزیراعظم کو ہٹا دیا جاتا ہے تو ان کا جانشین اس منصوبے پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔ تقریب سے قبل سٹارمر کی سینئر وزیر ویس سٹریٹنگ سے ملاقات متوقع ہے، جنہیں ان کی قیادت کے لیے ممکنہ حریف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بدھ کی پارلیمانی بحث کے دوران اپوزیشن اور ناراض ارکان کی جانب سے سٹارمر کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت پر کڑی تنقید متوقع ہے۔
