چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو انٹیلی جنس پر مبنی درست کارروائیوں کے ذریعے ہر صورت ختم کیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق راولپنڈی میں علماء سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے زور دیا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے پابند ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی آڑ میں پاکستان میں تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال کرنے کے خلاف سخت تنبیہ کی اور ملک میں اتحاد، رواداری اور قومی ہم آہنگی کے فروغ میں علماء کے کردار کو کلیدی قرار دیا۔
پاکستان نے عید الفطر کے احترام اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر آپریشن غضب الحق میں عارضی وقفے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یہ وقفہ اٹھارہ انیس مارچ کی درمیانی شب سے تئیس چوبیس مارچ کی درمیانی شب تک نافذ رہے گا۔ تاہم، سرحد پار سے کسی بھی حملے یا پاکستان کے اندر دہشت گردی کی صورت میں آپریشن فوری طور پر دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن غضب الحق کے دوران اب تک سات سو سات دہشت گرد ہلاک اور نو سو اڑتیس زخمی ہو چکے ہیں۔ کارروائیوں میں دو سو ترپن چوکیاں تباہ اور چوالیس پر قبضہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دو سو سینتیس ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز کو تباہ کیا گیا جبکہ افغانستان کے اندر اکیاسی مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ علماء نے ملک میں امن و استحکام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور مذہب کے نام پر تشدد کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔
