-Advertisement-

طورخم بارڈر: آپریشن غضب الحق میں وقفے کے بعد افغان شہری کی میت حوالے

تازہ ترین

علاقائی کشیدگی کے باوجود پی ایس ایل اپنے شیڈول کے مطابق ہوگی، پی سی بی نے تربیتی پلان جاری کر دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستان سپر لیگ...
-Advertisement-

خیبر کے علاقے طورخم بارڈر پر زیرو پوائنٹ پر کئی روز سے پڑی افغان شہری کی لاش جمعرات کے روز مقامی قبائلی عمائدین کے وفد نے افغان حکام کے حوالے کر دی۔ یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے عید الفطر کے پیش نظر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر آپریشن غضب الحق میں عارضی وقفے کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔

لاش کی موجودگی کی اطلاع مقامی لوگوں نے سیکیورٹی حکام کو دی تھی جس کے بعد قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک وفد نے طورخم بارڈر کا دورہ کیا۔ اس وفد میں ملک تاج الدین، مفتی اعجاز، شاہ خالد، قاری جہاد شاہ، قاری نظیم گل اور سعید خان شامل تھے۔

وفد کے رکن شاہ خالد نے بتایا کہ سیکیورٹی صورتحال کے باوجود وہ گزشتہ ایک ہفتے سے مقامی سیکیورٹی حکام اور افغان وفد کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام نے 13 مارچ کو ہی تصدیق کر دی تھی کہ متوفی افغان شہری ہے جو پیشے کے اعتبار سے دیہاڑی دار مزدور تھا، تاہم باہمی مشاورت میں طوالت کے باعث لاش کی حوالگی میں تاخیر ہوئی۔

شاہ خالد کے مطابق وفد نے دونوں ممالک کے حکام پر مسلسل زور دیا کہ لاش کی بازیابی اور تدفین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد ممکن بنایا جائے۔ آپریشن غضب الحق میں عارضی وقفے کے بعد انہوں نے دوبارہ مقامی حکام سے رابطہ کیا جس کے بعد انہیں موقع پر جانے اور لاش افغان حکام کے سپرد کرنے کی اجازت مل گئی۔

شاہ خالد نے مزید بتایا کہ لاش کافی حد تک گل سڑ چکی تھی جس کے باعث اسے تابوت میں منتقل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انسانی ہمدردی کے تحت کی گئی ان کوششوں کے بعد لاش کو باضابطہ طور پر افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -